بنگلورو،13؍اکتوبر(ایس او نیوز) کیا کرناٹک میں این آر سی کے نفاذ کے معاملے میں ریاستی حکومت کا موقف مرکزی حکومت خاص طور پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے موقف سے مختلف ہے- حالانکہ امیت شاہ نے حال ہی میں مغربی بنگال میں ایک بیان دیا تھا کہ اس ملک میں این آر سی کا عمل پورا ہونے کے بعد غیر ملکی قرار پانے والے ہندو، سکھ، عیسائی، بدھسٹ غیر ملکیوں کو ملک سے نکالا نہیں جائے گا- اس سے انہوں نے اپنے اور مرکزی حکومت کے ارادے صاف ظاہر کر دئیے کہ این آر سی کے نفاذ کا واحد مقصد اس ملک میں آباد مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے- لیکن اس کے برعکس کرناٹک کے وزیر داخلہ بسواراج بومئی نے جمعہ کے روز یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ کرناٹک میں این آر سی کے نفاذ کے مرحلے میں مسلمانوں کو ہرگز ہراساں نہیں کیا جائے گا-
بومئی کا یہ بیان امیت شاہ کے اعلان کے عین متضاد ہے- ریاست کے سرکردہ مسلم منتخب نمائندوں نے جمعہ کے روزریاستی وزیر داخلہ بسواراج بومئی سے این آر سی کے نفاذ کے معاملے پر ملاقات کی اورانہیں اس سلسلے میں مسلم طبقے کی تشویش سے آگاہ کروایا- اس مرحلے میں انہوں نے یہ واضح کیا کہ ریاست میں این آر سی کے مرحلے میں کسی باشندے کو ہراساں نہیں کیا جائے گا- خاص طور پر مسلمانوں کو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں - بومئی کا بیان ایک نئی بے چینی کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ امیت شاہ کے بیان سے بالکل متضاد ہے- کیا کرناٹک کی بی جے پی حکومت میں اتنی سیاسی قوت ہے کہ وہ امیت شاہ کے بیان سے آگے بڑھ کر ان بنیادوں پر این آر سی کا کام انجام دے سکے جو امیت شاہ کے طے کردہ رہنما خطوط کے برعکس ہوں - شاید یہ موجودہ حالات میں ناقابل تصور ہے- ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ریاستی وزیر داخلہ بسوراج بومئی نے امیت شاہ کے مبینہ بیان کی حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ تیقن دے دیا کہ این آر سی سے مسلمان نہ گھبرائیں - اور اگر ایسا نہیں ہے تو کیاوزیر داخلہ نے مسلم قائدین کا دل رکھنے کے لئے ان کی تشویش کو سنجیدگی سے سننے کی بجائے انہیں چاکلیٹ دے کر چلتا کردیا؟
مسلم قائدین نے جب این آر سی کے متعلق وزیر داخلہ سے بات کی تو اس مرحلے میں انہوں نے امیت شاہ کے اس بیان کا تذکرہ کیا بھی کہ نہیں - پتہ نہیں -پھر بھی تمام اس بات پر مطمئن لوٹ گئے کہ این آ رسی کے نفاذ کے مرحلے میں مسلمانوں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا- شاید یہ لوگ ا س بات کو مان بیٹھے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جو پورے ملک میں اپنی مرضی چلا رہے ہیں اور جن کے اشارے کے بغیر کرناٹک کی حکومت میں ایک چپراسی کو مقرر کرنے کا بھی اختیار وزیر اعلیٰ کو نہیں ہے - ان کے فرمان کو وہ اتنی آسانی سے نظر انداز کردیں گے-